پلازے والی لڑکی۔۔۔

پچھلے دنوں ایک لڑکی نے رابطہ کر کے پوچھا کہ سرمیں شادی شدہ ہوں اور میرے دو بچے ہیں۔شوہر سے کسی بات پر ناراضگی کے بعد میں اپنے والدین کے گھر آ گئی تو میرے شوہر نے مجھے واپس لے جانے سے انکار کر دیا۔اب میں بچوں کے ساتھ کئی ماہ سے اپنے والدین کے گھر رہ رہی ہوں۔کچھ ماہ پہلے شوپنگ کے لئے جانا تھا تو میں نے کریم منگوا لی۔کریم کا ڈرائیور ایک نوجوان لڑکا تھا۔میں گاڑی میں چپ کر کے بیٹھی موبائل یوز کر رہی تھی کہ اس لڑکے نے مجھے میرے اچھے موبائل اور کپڑوں سے بھانپ کرکہاکہ اگر میں آپ سے ایک بات پوچھوں تو آپ برا تو نہیں منائیں گی۔

جی جی پوچھو۔مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔میں نے جواب دیا۔کیا آپ ہمیشہ کریم پر ہی جاتی ہیں یا خود بھی ڈرائیو کرتی ہیں؟ ڈرائیور لڑکے نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔گھر میں گاڑی تو ہے مگر میں آج کل تھوڑی پریشان ہوں اس لئے ڈرائیو نگ سے اوائیڈ کرتی ہوں۔میں نےبولڈ ہو کراسے جواب دیا۔آپ وہیں رہتی ہیں۔جہاں سے میں نے آپ کو پک کیا تھا؟شایداس لڑکے میں میری پریشانی پوچھنے کی تو ہمت نہیں تھی۔اس لئے اس نے بات کو بڑھاتے ہوئے مزید پوچھا۔جی میں وہیں رہتی ہوں۔جس پلازے کے سامنے سے آپ نے مجھے پک کیا تھا۔ وہ ہمارا ہے۔
اس کے پیچھے ہی میرا گھر ہے۔میں نے جواب دیا۔میں نے یہ ساری انفارمیشن لاشعوری طور پر شیئر کی تھی۔تب تک مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ کسی اجنبی کو اتنی انفارمیشن دینے سے اس قسم کا مسئلہ بھی ہو سکتا ہے۔پلازے والی بات سن کر اس لڑکے کی آنکھیں چمک اٹھیں۔وہ ساری دکانیں اور اوپر کے فلاٹس بھی آپ کے ہی ہیں؟ڈرائیور لڑکے نے مجھ سے پوچھا۔پلازے میں سب کچھ آتا ہے۔میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔تب تلک میرے ذہن میں صرف یہ تھا کہ یہ لڑکا صرف کریم کا ڈرائیور ہے اور پتا نہیں دوبارہ کبھی میری اس سے بات ہوتی بھی ہے یا نہیں۔

مارکیٹ پہنچ کر جب میں اس لڑکے کی گاڑی سے اترنے لگی تو اس نےمجھ سے کہا کہ آپ میرا پرسنل نمبر رکھ لیں اور جب کبھی بھی آپ کو ڈرائیور کی ضرورت ہو تو مجھے کال کر لیں۔میں نے اس کا نمبر اپنے موبائل میں سیّو کر لیا۔تب مجھے یہ نہیں پتا تھا کہ کسی اجنبی کا نمبر موبائل میں سیّو کرنے سے یہ مسئلہ بھی ہو سکتا ہے۔نمبر لینے کےکچھ دن بعد مجھےکہیں جانا تھا تو میں نے کریم کی بجائے اس لڑکے کو کال کر دی۔وہ کہیں مصروف تھا مگر اس نے کہا کہ آپ مجھے پندرہ منٹ دیں ۔میں سارے کام چھوڑ کر ابھی آ جاتا ہوں۔پھر وہ لڑکا اپنے سارے کام چھوڑ کر پندرہ منٹ سے پہلے پہلے ہی میرے گھر کے باہر آ گیا۔

جہاں میں نے جانا تھا وہاں چھوڑنے کے بعد اس لڑکے نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کتنی دیر میں فری ہوں گی؟ تقریباً دو تین گھنٹے تک فری ہو جاؤں گی۔میں نے جواب دیا۔اس نے کہا کہ میں یہیں ہوں۔ کہیں نہیں جاؤں گا۔جب بھی آپ فری ہوں۔مجھے کال کر دیں۔میں آپ کو واپس چھوڑ آؤں گا۔میں اس کی یہ بات سن کر چپ کر گئی۔اس دن کے بعد اگر میں نے کہیں بھی جانا ہوتا تو میں اسے کال کر دیتی۔وہ فوراً سے پہلے پہنچ جاتا۔روز روزایک ساتھ آنے جانے کی وجہ سے وہ مجھ سے کافی حد تک فریک ہو گیا۔

ایک دن اس نے مجھ سے پوچھا کہ جب آپ شادی شدہ ہیں اور آپ کے دو بھی بچے ہیں تو آپ اپنے والدین کے ساتھ کیوں رہتیں ہیں؟اپنے شوہر کے ساتھ کیوں نہیں رہتیں؟ کافی حد تک تعلق بن جانے کی وجہ سے میں نے اسے بتا دیا کہ میں اپنے شوہر سے ناراض ہو کر آئی ہوں اور وہ مجھے واپس لے کر نہیں جا رہا۔اس لڑکے نے آہستہ آہستہ پہلے میرا درد سنا اور پھر ایک دن کہنے لگا کہ میں نے آپ سے بات کرنی ہے۔میں نے کہا کہ کرو کیا بات کرنی ہو تو اس پر وہ رونے لگا۔کہنے لگا کہ مجھے آپ سے محبت ہو گئی ہیں۔وہ شخص کتنا بدنصیب ہے جو اپنے بچوں کو باپ کا پیار نہیں دے رہا۔

میں کوئی ایسا ویسا لڑکا نہیں ہوں۔میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔شادی کر کے میں آپ اور آپ کے بچوں کا سہارا بننا چاہتا ہوں۔لڑکی نےمزید بتایا کہ سر میں اس کی یہ بات سن کر ڈر گئی۔میں نے کہا کہ تم اپنی عمر دیکھو اور میری عمر دیکھو۔تم مجھ سے پورے پانچ سال چھوٹے ہو۔ویسے بھی تمہارے گھر والے تمہاری شادی ایک دو بچوں کی ماں سے کیوں کریں گے؟ وہ مزید رونے لگا۔کہنے لگا کہ میرے گھر والے ہیں۔میں انھیں جیسے تیسے کر کے منا لوں گا۔اگر وہ نہ بھی مانے تو بھی میں آپ سے شادی کر لوں گا۔بس آپ اپنے شوہر سے طلاق لے کر مجھ سے شادی کر لیں۔مجھے ایک موقع دیں۔میں ساری عمر آپ کو کوئی دکھ نہیں دوں گا۔

میں نے اس کی بات سنی اور کہا کہ مجھے سوچنے کا موقع دو۔سر آپ کو پتا ہے کہ لڑکیوں کا دل کتنا کمزور ہوتا ہے؟یہ لڑکوں کی آنسو دیکھ کر دکھڑکنا بند کر دیتا ہے۔میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔مگر چونکہ میں چپ رہی اسے فوراً کوئی جواب نہ دیا تو وہ جب بھی مجھ سے ملتا ہے تو رونے لگتا ہے۔میرے پاؤں پکڑ کر کہتا ہے کہ میں سچا ہوں۔ میرا یقین کریں۔لڑکی نے مزید بتایا کہ سرمیں کسی سے مشورہ لینا تو دور کی بات ہے یہ مسئلہ کسی کو بتا بھی نہیں سکتی۔سوچ سوچ کر میرا ذہن سن ہو گیا ہے کہ آیا وہ لڑکا مجھ سے سچی محبت کرتا ہے یا نہیں؟سوچا آپ سے مشورہ کر لوں۔آپ ہی بتائیں کہ میں کیا کروں؟
بس ایک بات جو آپ کو بتانا چاہتی ہوں وہ یہ کہ وہ اکثر مجھ سےباتوں باتوں میں پوچھتا ہے کہ آپ لوگ صرف دو بہن بھائی ہو تو آپ کا اس جائیداد میں کتنا حصّہ ہے؟ پلازے کا کرائے میں سے تمہیں کتنا حصّہ ملتا ہے؟شادی کے بعد ہم یہ کاروبار کر لیں گے۔کیونکہ جو گاڑی وہ کریم کے لئے چلاتا ہے وہ کسی اور کی ہے۔اس کی کچھ باتوں پر مجھے اس پر تھوڑا ڈاؤٹ ہوتا ہے۔مگر میرا دل چونکہ اس کے ساتھ ملا ہوا ہے۔اس لئے مجھے صحیح سے سمجھ نہیں آتی۔آپ کو اس لڑکےمیں کیا اچھا لگتا ہے؟میں نے اس لڑکی سے پوچھا۔باتیں۔وہ باتیں بہت اچھی کرتا ہے۔لڑکی نے جواب دیا۔

میں نے کہا کہ ایک تو لڑکوں کی باتیں لڑکیوں کو برباد کر دیتی ہیں۔کسی کا باتوں سے اچھا لگنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔اس پر اس لڑکی نے کہا کہ سر وہ میرے پاؤں میں سر رکھ کر روتا ہے۔بھلا کبھی کوئی جھوٹا بھی کسی کے پاؤں میں سر رکھ کر رو سکتا ہے؟میں نے جواب دیا کہ وہ آپ کے پاؤں میں سر رکھ کر نہیں بلکہ پلازے کے پاؤں میں سر رکھ کر روتا ہے۔وہ جب بھی آپ کو دیکھتا ہے تو اسے آپ کے اندر پلازہ نظر آتا ہے۔ایک ایسا پلازہ جس کا کرایہ آتا ہے۔یاد رکھیں کہ اس دور میں کوئی کسی کا سہارا نہیں بنتا۔بلکہ وہ دوسرے شخص میں اپنا سہارا ڈھونڈ رہا ہوتا ہے۔

سر کرامت بھی تو ہو سکتی ہے؟کیا دنیا میں اچھے لوگ نہیں ہیں۔ اس لڑکی نے معصومیت سےپوچھا۔میں نے کہا کہ جی ضرور۔کرامت کیوں نہیں ہو سکتی۔ضرور ہو سکتی ہے۔مگر اگر آپ کے اندر سے پلازہ نکال دیا جائے تو پھر جو بھی ہو گا اسے کرامت کہیں گے۔اگر وہ صرف دو بچوں کی ماں کا سہارا بننا چاہے گا تو اسے کرامت کہیں گے۔آپ ایسا کریں کے آنے والے دنوں میں اسے باتوں باتوں میں بتائیں کہ اگر آپ نے اس سے شادی کی تو آپ کے والدین آپ کو جائیداد سے محروم کر دیں گے۔پھر دیکھیں کہ کیسی کرامت ہوتی ہے۔اور اگر سر اسے مجھ سے محبت برقرار رہی تو پھر؟لڑکی نے ہنستے ہوئے کہا۔

میں نے جواب دیا کہ آپ میری نفسیات کی ساری ڈگریاں مجھ سے لے کر میرے سامنے جلا دینا۔مجھے رتی برابر دکھ نہیں ہو گا۔کچھ دن بعد لڑکی نے جب لڑکے کو بتایا کہ میں اپنی بےقدرے شوہر سے طلاق لے کر تمہارے ساتھ شادی کرنے کے لئے تیار ہوں تو وہ لڑکا اتنا خوش ہوا جیسے وہ دن اس کے لئے عید کا دن ہو۔شادی کی خبر کے ساتھ ساتھ لڑکی نے اسے بتایا کہ میں نے گھر میں دبے لفظوں میں طلاق لے کر دوسری جگہ شادی کرنے کا سوچا ہے تو اس پر میرے گھر والوں نے صاف کہہ دیا ہے کہ اگر تم نے اپنی مرضی کی تو ہم تمہیں جائیداد سے عاق کر دیں گے۔لڑکا یہ سن کر گھبرا گیا۔

اس نے جلدی سے لڑکی سے کہا کہ ماں باپ ایسے ہی کہتے ہیں۔شادی کے بعد دیکھنا وہ تمہیں کبھی بھی جائیداد سے عاق نہیں کریں گے۔لڑکی چونکہ اسے چیک کر رہی تھی۔اس لئےاس نے کہا کہ نہیں میرے والدین ہیں اس لئے مجھے ان کا پتا ہے۔وہ طلاق کے وقت ہی شادی سے پہلے ہی مجھے عاق کر دیں گے۔تاکہ جب کوئی مجھ سے شادی کرے تو وہ صرف مجھ سے اور میرے بچوں سے شادی کرے۔مجھے بھی ان کی اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔لڑکا لڑکی کی یہ بات سن کر پریشان ہو گیا۔تھوڑی دیر بعد اس نے خود کو سنبھالا۔

اوراس نے لڑکی سے کہا کہ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔میں نے آپ سے شادی کرنی ہے نا کہ جائیداد سے۔میں آپ سے محبت کرتا تھا۔کرتا ہوں اور ہمیشہ کرتا رہوں گا۔میں آپ کے ساتھ ہوں۔یہ کہہ کر وہ لڑکا چلا گیا۔لڑکی مجھ سے رابطہ کر کے رونے لگی کہ سروہ لڑکا سچا ہے۔میں نے ایسے ہی اس پر شک کیا۔آپ مائینڈ نہ کیجئے گا۔آپ کی نفسیات یہاں فیل ہو گئی۔ضروری نہیں ہے کہ لوگ پیسے سے ہی پیار کریں۔کچھ لوگ دل سے بھی پیار کرتے ہیں۔میں آپ کی عزت کرتی تھی اور کرتی رہوں گی۔مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ میرے کیس میں اس لڑکے کی نفسیات کو نہیں سمجھ سکے۔

میں خوشی سے اس لڑکی کی ساری بات سنتا رہا۔جب اس نے وہ کہہ لیا جو وہ کہنا چاہتی تھی تو میں نے کہا کہ نادان لڑکی۔آپ کس دور میں رہ رہی ہیں۔یہ مطلب پرستی کا دور ہے۔یہاں بغیر کسی مطلب کے کون کسی کا بنتا ہے۔آپ اس لڑکے کی باتوں میں آگئی ہیں۔ابھی تو اس نے کہا ہے کچھ کیا تو نہیں ہے۔ابھی کچھ دن ٹھہریں۔وہ لڑکا جو آپ کی طرف بھاگتا تھا۔ دوسری طرف بھاگے گا۔کچھ دنوں میں وہ مصروف ہو جائے گا اور ایسا مصروف ہو گا کہ غائب ہی ہو جائے گا۔لڑکی چپ کر گئی۔پھر ایک ماہ بعد اس نے رابطہ کر کے بتایا کہ سر مجھے معاف کر دیں۔

آپ کی نفسیات جیت گئی اور میری محبت ہار گئی۔اس لڑکے نے پہلے تو مجھے اگنور کیا۔پھر کہنے لگا کہ میں مصروف ہوں۔اور کچھ دنوں بعد اس نے مجھے بتایا کہ میرے والدین نے میری منگنی کر دی ہے۔اب میں کسی اور کا ہوں۔روتے ہوئے اس لڑکی نے پوچھا کہ سر اس لڑکے نے اتنے بڑے بڑے دعوے کئے تھے۔وہ کیسے بدل گیا۔اسے تو مجھ سے عشق تھا۔عشق کا کیا بنا۔میں نے اسے سمجھایا کہ خود فریبی سے باہر نکلیں۔اسے آپ سے نہیں اس پلازے سے عشق تھا۔جو اسے آپ کے اندر نظر آتا تھا۔

آپ کے پاس پلازہ نہیں رہا تو اس کے اندر عشق بھی نہیں رہا۔خود ہی سوچیں جو کرائے کی گاڑی چلاکر گزارہ کرتا ہو۔جو اپنا سہارا نہ بن سکتا ہو ۔وہ کسی اور کا کیسے سہارا بن سکتا ہے؟ آج اس لڑکے کو کہو کہ میرے والدین مان گئے ہیں۔مجھے پلازہ مل گیا ہے۔آپ کو وہ لڑکا بھی واپس مل جائے گا۔مگر ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ وہ تب تک آپ کا رہے گا جب تک آپ کا پلازہ بیچ کر نہ کھا جائے۔

نوٹ۔۔۔ماہر نفسیات صابر چوہدری کی یہ تحریر ان کی مشہور کتاب لڑکیوں کی ڈائری سے لی گئی ہے۔کتاب لڑکیوں کی ڈائری نوجوان نسل میں بے حد مقبول ہے۔اگر آپ نے ابھی تک یہ کتاب نہیں پڑھی تو پہلی فرصت میں ہی اس کتاب کو پڑھیں تاکہ آپ کو لوگوں کی نفسیات سمجھنے میں آسانی ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں