عاشق لڑکی

عاشق لڑکی۔۔۔
ایک لڑکے نے رابطہ کر کے مجھے بتایاکہ سر۔۔۔ایک لڑکی مجھ پر کئی سالوں سے عاشق تھی۔وہ مجھ سے بےانتہا محبت کرتی تھی۔جو میں کہتا تھا وہ وہی کرتی تھی۔اگر میں زرا سا بھی اس سے دور ہوتا تھا تو وہ بےچین ہو کر تڑپنے لگتی تھی۔ کبھی مصروفیت کی وجہ سے میں اس سے کچھ وقت بات نہیں کر پاتاتھا تو جسے ہی اس سے بات ہوتی وہ میری آواز سن کر خوشی سے رونے لگتی تھی کہ شکر ہے تمہاری آواز سننے کو ملی۔اور میری جان میں جان آئی۔میرا اسے چھوڑ دینے کا خیال تک اسے خوفزدہ کر دیتا تھا۔جب میں کبھی اسے یہ کہتا تھا کہ میں تمہیں چھوڑ دوں گا تو یہ سن کر وہ کانپنے لگتی۔میری منتیں کرتی تھی کہ تمہیں اللہ کا واسطہ مجھے کبھی نہ چھوڑنا۔وہ مجھ سے اتنی چاہت۔۔۔ اتنی محبت کرتی تھی کہ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کوئی مجھ سے اتنی پاگلوں سی محبت بھی کر سکتا ہے۔میں اکثر اسے کہتا تھا کہ تم پاگل ہو۔ مگر پھر۔۔۔
کچھ ماہ پہلے اس نے مجھے ہر جگہ سے بلاک کر دیا تو میں حیران ہو گیا۔مجھے یقین تھا کہ وہ کہیں نہیں جا سکتی۔گو کہ کبھی اس نے میرے ساتھ ایسا نہیں کیا تھا۔لیکن پھر بھی میں نےخود کو سمجھایا کہ لڑکیاں ایسا کرتی ہیں۔کبھی بلاک کر دیتی ہیں کبھی اَن بلاک۔لیکن جاتی کہیں نہیں ہیں۔اس نے بھی کہاں جانا ہے۔اس کے اندر میرا عشق اتنا بھرا ہوا ہے کہ وہ چاہ کر بھی مجھے نہیں چھوڑ سکتی۔
میں نے ایک دن انتظار کیا پھر دو دن پھر تین دن اور اس طرح کرتے کرتے جب کئی دن گزر گئے اور وہ واپس لوٹ کر نہیں آئی تو میری سانسیں بند ہونے لگیں کہ اسے ہوا کیا ہے۔جب میں نے اس کی بیسٹ فرینڈ سے رابطہ کیا  اور اس کے آگے رو رو کر پوچھا کہ بتاؤ تو سہی کیا ہوا ہے۔تب اس نے مجھے بتایا کہ اس نے تمہیں چھوڑ دیا ہے۔میں اس کی بات سن کر حیران ہو گیا کہ اس میں اتنی طاقت۔۔۔  اتنی ہمت۔۔۔ اتنا حوصلہ ۔۔۔کہاں سے آگیا  کہ اس نے مجھے چھوڑ دیا۔
جب مجھے پتا چلا کہ اس نے مجھے چھوڑ دیا ہے تو جو اس کی حالت ہوتی تھی وہی پاگل پن جیسی حالت میری ہو گئی۔مجھے بیٹھے بیٹھے یہ سوچ کر رونا آ جاتا کہ میری اب اس سے بات نہیں ہوتی۔مجھے بھوک لگنا بند ہو گئی ہے۔کچھ کرنے کو دل نہیں کرتا۔اس کے پرانے میسجز باربار پڑھتا رہتا ہوں۔اس کی پرانی تصویروں کو دیکھ کر تسکین حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔میرا ذہن یہ سوچ سوچ کر پاگل ہو گیا کہ اس میں اتنی طاقت کہاں سے آگئی کہ  جو ایک منٹ بھی میرے بغیر نہیں رہتی تھی اب اتنے ماہ سے میرے بغیر رہ رہی ہے۔
کچھ دن پہلے میں نے اس کی بیسٹ فرینڈ کے سامنے اپنے ہاتھ کو کٹ لگا کر پوچھا کہ اگر تم مجھے یہ نہیں بتاؤ گی کہ اس میں اتنی طاقت کہاں سے آ گئی کہ اس نے مجھے چھوڑ دیا تو میں خود کو ختم کر لوں گا۔میرے جسم سے خون نکلتا ہوا دیکھ کر وہ ڈر گئی اور اس نے مجھے بتایا کہ  اس نے صابر چوہدری سے سیشن لئے ہیں۔سیشن لینے کے بعد میں نے محسوس کیا ہے کہ وہ طاقتور ہو گئی ہے۔وہ تمہیں کیا کسی کو بھی چھوڑ سکتی ہے۔
یہ ساری بات بتانے کے بعد اس لڑکے نے مجھ سے پوچھا کہ  سر کیا اس  لڑکی نے آپ سے سیشن لئےہیں؟ میں نے اسے جواب دیا کہ مجھ سے ہزاروں لڑکیاں سیشن لیتی ہیں۔میں یہ کیسے کہہ سکتا ہوں کہ اس نے مجھ سے سیشن لئےہیں یا نہیں۔ویسے بھی میں سیشن لینے والی لڑکیوں کے نام یا ان کی معلومات سنبھال کر نہیں رکھتا۔اور اگر فرض کریں  کہ کسی کی معلومات میرے پاس ہو بھی تو میں اسے کسی اور کو نہیں دیتا۔کیونکہ ایسا کرنا میرے پروفیشن کے خلاف ہے۔اس  لئے آپ اس طرح کے سوال پوچھنے کی بجائےکوئی ایسا سوال پوچھیں جن کی مدد سے میں آپ کی مدد کر سکوں۔
اس پراس نے مجھے کہا کہ سرمیں آپ کے سامنے قران پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانے کے لئے تیار ہوں کہ میں  اس لڑکی کے ساتھ مخلص ہوں۔میں اس سے محبت کرتا ہوں اور اس  سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔مجھےلگتا ہے کہ آپ نے اس کی بات سن کر اس کے اندر میرے خلاف زہر بھر دیا ہے۔جب کہ میں آپ کے سامنے کنفیس کرنے کے لئے تیار ہوں کہ  اس میں کوئی شک نہیں کہ میں اس کی بے قدرے کرتا تھا۔اس کو جان بوجھ کر تنگ کرتا اور اذیت دیتا تھا۔اسے جذباتی بلیک میل کرتا تھا۔اسے چھوڑنے کی دھمکیاں دے کر کنڑول کرتا تھا۔مگر سر مجھ سے غلطی ہو گئی۔میں اس سے  اور آپ سے معافی مانگتا ہوں۔آپ خوداس کے اندر سے اپنا بھرا ہوا زہر نکال دیں۔تاکہ وہ واپس آ جائے۔
میں نے اس  سے کہا کہ  میری بات غور سے سنو۔۔۔ میں لڑکی نہیں ہوں جو قران پر ہاتھ رکھے ہوئے لڑکے کی باتوں میں آ جاؤں۔میں تمہارے ساتھ مخلص ہوں۔مجھے تم سے محبت ہے۔میں تمہارے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہوں۔جیسے جملے لڑکیوں کو ذہنی غلام بنا سکتے ہوں گےمگر مجھے نہیں۔اس لئے نہیں کہ میں آپ کی محبت کو نہیں مانتا بلکہ اس لئے کہ میں لفظوں کو نہیں عمل کو مانتاہوں۔کسی سے محبت کا ہونا یا نہ ہونا الفاظ نہیں اعمال سے پرکھا جاتا ہے۔منہ سے یہ کہنے سے کیا ہوتا ہے کہ میں مخلص ہوں جبکہ آپ کی  ساری حرکتیں دشمنوں جیسی ہیں۔اگرآپ اس سے شادی کرنا چاہتےہیں تواس میں کونسی بڑی بات ہے۔بچوں کو بازار میں کھلونا پسندآ جائے تووہ بھی اسے لینے کی ضد کرنے لگتے ہیں۔چاہے خریدنے کے بعد گھر لے جا کر خود ہی  اپنے ہاتھوں سےاس کھلونے کو توڑ دیں۔
جسے آپ زہر کہہ رہے ہیں یہ وہی طاقت ہے جسے میں فخر سےلوگوں کے اندربھرتا ہوں تا کہ وہ ظلم برداشت کرنے کی بجائے اس سے باہر نکل جائیں۔میرا بھرا ہوا زہر زندگی لیتا نہیں بلکہ زندگی دیتا ہے۔ آپ ایسا کریں اس لڑکی کو وقت دیں۔اگر آپ کی محبت مخلص ہوئی تو وہ واپس آ جائے گی ۔ورنہ میرا بھرا ہوا زہر  اس کی ساری زندگی سکون سے بھر دے گا۔
آپ کا ماہر نفسیات۔۔۔صابر چوہدری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *