زہریلے لڑکوں کی نشانیاں

زہریلے لڑکوں کی نشانیاں۔۔۔
لڑکے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جن کے زندگی میں آنے بعد زندگی خوشیوں سے بھر جاتی ہےاور دوسرے وہ ۔۔۔جن کے زندگی میں آنے کے بعد زندگی زہر بن جاتی ہے۔زندگی زہر بنا دینے والےزہریلے لڑکوں کی چند نشانیاں یہ ہیں۔
آپ کے سارے وقت پرقبضہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ آپ کو کسی اور کے ساتھ حتانکہ آپ کواپنی ذات کے ساتھ بھی وقت نہیں گزارنے دے گا۔یعنی آپ کا می ٹائم مارنے کی کوشش کرے گا۔کہاں ہو؟ کس کے ساتھ ہو؟ کیا کر رہی ہو؟ جیسے سوالات بار بار پوچھے گا۔
آپ کوآپ کی دنیا اور دوستوں سے دور کر دے گا۔خاص طور پرآپ کوآپ کا ساتھ دینے والے لوگوں سے علیحدہ کرنے کی کوشش کرے گا۔آپ کو کسی سے بات نہیں کرنے دے گا۔میرے علاوہ کسی سے بات نہ کرو۔کسی کو کچھ نہ بتاؤ۔اپنا دکھ درد صرف اور صرف میرے ساتھ شیئر کرو۔جیسی باتیں کرے گا۔
آپ کو وہ کام کرنے کو کہے گا جو کام آپ کرنا نہیں چاہتیں۔
آپ سےاپنی بات منوانے کے لئے رابطہ ختم کر دے گا۔میسجز کا جواب نہیں دے گا۔کالز نہیں اٹھائے گا۔آپ کو تب تک اگنور کرے گا جب تک آپ اس کی بات مان نہ لیں۔
آپ کو تحفوں ۔۔۔جھوٹی معافیوں اور جھوٹےوعدوں سےجیتنے کی کوشش کرے گا۔
آپ کو یونیورسٹی یا جاب سے چھٹی یا کلاس بنک کرنے کو کہے گا۔آج نہیں جاؤ گی تو کیا ہو جائے گا۔پلیز آج میرے لئےیونیورسٹی/کلاس یا جاب پر نہ جاؤ۔جیسی باتیں کرے گا۔
اگر آپ جاب کرتیں ہوں گی تو آپ کو جاب چھوڑنے کو کہے گا۔آپ کا روزگار چھین کر آپ کو بےروزگار کرنا چاہے گا۔اگر آپ جاب جاری رکھیں گی تو آپ کی تنخواہ مانگے گا۔آپ کے پیسوں کا ایسے مالک بنے گا جیسے اس نےخود کمائے ہوں۔
آپ کا ڈائریکٹ مذاق اڑائے گا۔تم کتنے عجیب کپڑے پہنتی ہو۔تم کس طرح کے لوگوں سے ملتی ہو۔آپ کو شرمندہ کرے گا۔اگرآپ کا ڈائریکٹ مذاق نہیں اڑا سکے گا تو اِن ڈائریکٹ  مذاق اڑانے کی کوشش کرے گا۔تلخ  باتیں کرے گا۔ایسی تلخ باتیں جس سے آپ ہرٹ ہوں۔آپ کو ہرٹ  کر کےکہے گا کہ   ہاہا ہامیں تو مذاق کر رہا تھا۔ اپنے زہریلے روئیے کی ذمہ داری قبول نہیں کرے گا۔
تنہائی میں اس کا رویّہ اور اور دوسروں کے سامنے اورہو گا۔
میں خود کو ختم کر لوں گا ۔جیسی باتیں کرے گا۔یعنی خود کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دے گا۔اور کبھی تو توجہ حاصل کرنے کے لئے خود کو نقصان پہنچا بھی لے گا۔
بونس بات۔۔۔بےوفائی کے بعد آپ کو اس کا ذمہ دار ٹھہرائے گا۔تم یا تمہاری فلاں حرکت نے مجھے بےوفائی پر مجبور کیا۔
آپ کا ماہر نفسیات۔۔۔صابر چوہدری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *