دو نمبر لڑکی

دو نمبر لڑکی۔۔۔
پچھلے دنوں ایک لڑکا مجھے ملنے آیا تو اس نے مجھے ایک بہت تکلیف دہ واقع سنایا۔اس نے بتایا کہ وہ ایک دوست کی شادی میں گیا تو وہاں اسے ایک ایسا لڑکا ملا جو بہت ہی  بڑبولا اورتیز تھا۔ سب لڑکے اسے پیار سے استاد کہہ رہے تھے۔اس لڑکےنے بتایا کہ جب میں نےبھی اس لڑکے کی باتیں سنیں تو میں بھی اس کی ذہانت سے بہت متاثر ہوا۔
وہ لڑکا جسے سب لڑکے پیار سےاستاد کہہ رہے تھے دو نمبر لڑکیوں کو پہچاننے کا ماہر تھا۔وہ  کسی بھی لڑکی کوایک ہی نظر میں دیکھ کر بتا دیتا تھا کہ وہ لڑکی ایک نمبر ہے یا دو نمبر۔مجھے لڑکوں نے بتایا کہ صرف لڑکیاں ہی نہیں استاد تواڑتے پرندےتک کو دیکھ کر بتا دیتا ہے کہ وہ نر ہے یا مادہ۔استاد لڑکیوں  کودھوکہ دینے میں کئی سال کا تجربہ رکھتا تھا۔
استاد شادی میں آئی سب لڑکیوں کو دیکھ دیکھ کر بتا رہا تھا کہ یہ کتنے نمبر ہے۔اور اس سے تعلق بنانے میں کتنے دن لگ جائیں گے۔ساری شادی میں استاد لڑکوں کے درمیان سینٹرآف اٹینشن بنا رہا اور جاتے ہوئے بھی بہت سےلڑکے استاد کا نمبر لے کر گئے۔
استاد  لڑکوں میں اس قدرمشہور تھا کہ ہر کوئی دعوت پر آنے سے پہلےدوستوں سے پوچھتا تھا کہ یار استاد بھی آ رہا ہے یا نہیں۔اس کے بغیر مزہ نہیں آئے گا۔
اس لڑکے نے مجھے بتایا کہ سر۔۔۔میری بھی استاد کے ساتھ دوستی ہو گئی۔ایک بار ایک دوست کی شادی میں سب لڑکے استاد کے گرد بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ استاد نے شادی میں آئی ایک لڑکی کی طرف اشارہ کر کے سب لڑکوں کو بتانا شروع کیا کہ وہ سامنے جو کالی سی چھوٹے قد کی لڑکی کھڑی ہے یہ پکی دو نمبر لڑکی ہے۔
استاد نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پکی دو نمبر سے مراد یہ ہے کہ باقی دونمبر لڑکیاں جو تھوڑی بہت شکل وصورت کی ہوتی ہیں ان کو خود پر مان ہوتا ہے اس لئے وہ بہت سے کاموں کے لئے نہیں مانتیں جبکہ اس قسم کی لڑکیوں کو چونکہ زیادہ لڑکے منہ نہیں لگاتےاس لئےاس قسم کی لڑکیوں کا کوئی سٹینڈرڈ نہیں ہوتا۔اس قسم کی شکل وصورت کی لڑکیاں ہر کام کرنے کے لئےنہ صرف  راضی ہو جاتی ہیں۔بلکہ انھیں جب دل کیا منہ لگا لو اور جب دل نہ کرے تو بات کرنا بند کر دو۔یہ کچھ نہیں بولتیں۔ویسے تو یہ ناراض نہیں ہوتیں۔اور اگر ہو بھی جائیں تو فوراً مان جاتی ہیں۔ان کی خاص خوبی یہ ہے کہ یہ تعلق کے ٹوٹنے سے بہت زیادہ ڈرتی ہیں۔یہ ڈر انھیں ہم سے جوڑے رکھتا ہے۔ہم جو مرضی ان کے ساتھ کر لیں یہ کہیں نہیں جاتیں۔
اس لڑکے نے بتایا کہ استاد کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی میں نے استاد کا گریبان پکڑ لیا اور تھپڑ مارتے ہوئے کہا کہ بےغیرت انسان وہ لڑکی میری بہن ہے۔میرا جملہ سن کروہاں موجود سب لڑکےخاموش ہو کر ادھر ادھر ہو گئے۔یہ واقع سناتے وقت اس لڑکے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔اس نے بتایا کہ سر اس دن میں نے توبہ کر لی اور سب لڑکیوں کی عزت کرنے لگا۔بالکل ویسی ہی عزت جیسی میں اپنی بہنوں کی کرتا ہوں۔
بطور ماہر نفسیات میں سمجھتا ہوں کہ یہ واقع تکلیف دہ ضرور ہے مگر حیران کن نہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں لڑکیوں یا عورتوں کے معاملے میں عجیب منافقانہ معیار موجود ہے۔جو عورت۔۔۔ ماں ۔۔۔بہن ۔۔۔بیوی۔۔۔یا کسی بھی رشتہ کی صورت میں ہمارے  ساتھ جڑی ہو وہ ہمیں  ایک نمبراور باقی  دوسری سب عورتیں دو نمبر نظر آتی ہیں۔
آپ کا ماہر نفسیات۔۔۔صابر چوہدری۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *