لوگوں کو پڑھنا

لوگوں کو پڑھنے والا۔۔۔

میں ائیرپورٹ پراپنے سامان کا انتظار کر رہا تھا کہ میرے ساتھ کھڑا لڑکامجھ سے باتیں کرنے لگا۔

باتوں کے درمیان اس نے مجھےبتاکر کے وہ سوفٹ ویر انجینئر ہے اور مجھ سےپوچھا کہ آپ کیا کرتے ہیں؟ جب میں نے جواب دیا کہ میں ماہر نفسیات ہوں تو وہ بہت خوش ہوا۔پوچھنے لگا کہ آپ تو پھر آسانی سے لوگوں کو پڑھ لیتے ہوں گے؟

یہ وہ سوال ہے جو مجھ سے بار بار پوچھا جاتا ہے اور میں ہمیشہ اس کا جواب کچھ یوں دیتا ہوں کہ ہر انسان مختلف ہوتا ہے۔کوئی جلدی سمجھ آ جاتا ہے تو کچھ کو سمجھنے میں تھوڑا وقت لگتا ہے۔جب بھی آپ کوئی کام دل سے اور باربار کرتے ہیں تو وہ آپ کے لئے آسان ہو جاتا ہے۔چونکہ مجھےانسانوں کو پڑھنا پسند ہے(شاید یہی وجہ ہے کہ میں صرف کتابیں ہی نہیں انسانوں کو بھی پڑھتا ہوں)۔ اس لئےیوں کہا جا سکتا ہے کہ اب میرے لئےانسانوں کو پڑھ پڑھ کر انھیں سمجھنا عام آدمی سے زرا زیادہ آسان ہو گیا ہے۔جہاں کسی کو سمجھنے میں عام آدمی سالوں لگاتا ہے وہاں میں اسے چند سوالوں سےہی سمجھ لیتا ہوں۔

وہ مسکرا کر کہنے لگا کہ اچھا تو آپ سب کو پڑھتے ہیں پھر آج مجھے بھی پڑھیں۔میں نے جواب دیا کہ میں نے بےشمار لوگوں کو پڑھ کر پایا ہے کہ اللہ نے انسان کو چھپانے کی خوبی دے کر بھیجا ہے۔اس لئے ضروری نہیں ہے کہ جو وہ باہر سے نظر آتا ہے وہی وہ اندر سے بھی ہو۔اس کا ظاہر اور باطن مختلف بھی ہو سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر شیر باہر سے بھی شیر ہوتا ہے اور اندر سے بھی ۔ گدھا یا گیدڑ باہر سے بھی گدھا یا گیدڑ ہوتا ہے اور اندر سے بھی۔گدھا خود کو چھپا نہیں سکتا کہ وہ گدھا ہے۔یا وہ pretend نہیں کر سکتا کہ وہ شیر ہے۔مگر انسان مختلف ہوتا ہے ۔کئی بار وہ دیکھنے میں طاقتور نظر آتا ہےمگر اندر سے کمزور ہوتا ہے۔دیکھنے میں سخت نظر آتا ہے مگر اندر سے نرم دل ہوتا ہے۔دیکھنے میں باوفا لگتا ہے مگر اندر سے بےوفا ہوتا ہے۔

چلو تمہیں تمہاری خواہش پر دونوں طرح سے پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں۔بظاہرتم پُرکشش شخصیت کے مالک ہو۔تمہارے اندر ایک پُل(pull) ہےجس کی وجہ سے لوگ تمہاری طرف “کھینچ” محسوس کرتے ہیں۔تم وارم (warm)ہو۔تعلق آسانی سے بنا لیتے ہو۔اورلوگ بھی تم سے تعلق بنانا پسند کرتے ہیں۔

جی جی یہ بات تو کافی حد تک ٹھیک ہے۔کچھ ایسا ہی ہے ۔بلکہ مزے کی بات یہ ہے کہ ابھی کچھ دیر پہلےپلین میں کسی نے میرا نمبر لیا ہے۔اچھا اب یہ بتائیں کہ میں اندر سے کیسا ہوں؟اس نےپوچھا ۔

میں نے جواب دیا کہ اندر کو جاننے کے لئے ماہرنفسیات سوالات کا سہارا لیتے ہیں۔سوالات وہ ٹول یعنی اوزار ہیں جن کی مدد سے کسی کے اندر جھانکا جا سکتا ہے۔ زخموں کے پرانے سے پرانے پیچ بھی آسانی سے کھولے جا سکتے ہیں۔

تو میں آپ سے چندسوالات کروں گا ہو سکے توان کے سچے اور صحیح جوابات دینے کی کوشش کریں۔اگر آپ کسی سوال کا جواب نہ دینا چاہیں تو جھوٹ بولنے کی بجائے اسےskip کر دیں۔یاد رہے کہ نفسیات میں ایک ہی سوال کو کئی طریقوں سے پوچھا جاتا ہے تا کہ پتاچل سکے کہ بتانے والا جھوٹ تو نہیں بول رہا۔

اور پھرجب میں نے سوالات کرنا شروع کئے تو وہ گھبرا گیا۔سوالات کو skipکرنے لگا۔ جوابات دیتے وقت دیر دیر تک سوچنے لگا۔جو جوابات دئیے وہ بھی ٹوٹے پھوٹے سے تھے۔میں نے رزلٹ بتاتے ہوئے کہا کہ تم ایک لاپرواہ انسان ہو۔جسے تعلق بنانا تو آسان لگتا ہے مگر نبھانا مشکل۔جب تمہارے پاس کوئی تعلق نہ ہو تو تم کسی سے تعلق بن جانے اور جب کسی سے تعلق بن جائے تو بے وفائی کرنے کے خواب دیکھتے ہو۔تم شروع شروع میں لوگوں میں حد سے زیادہ دلچسپی لیتے ہو اور بعد میں بور ہو کر پیچھے ہٹ جاتے ہو۔تم دوسروں کو اپنی عادت ڈال کر بھول جاتے ہو۔تمہارا ظاہر دیکھ کر تم سے تعلق بنانے والے۔۔۔تمہارا نمبر مانگنے والے۔۔۔ہمیشہ تکلیف میں رہتے ہیں۔

اتنے میں میرا سامان آ گیا اور میں اسے اللہ حافظ کہہ کر۔۔۔اپنا بیگ گھسیٹتا ہوا۔۔۔ائیر پورٹ سے باہر آ گیا۔۔۔

15 thoughts on “لوگوں کو پڑھنا”

  1. he is same as me mjy rishtay banana psnd ha pr phr kisi dusry rishty ki talash hti ha janna chahti hn k kya kiya jaye me kisi ka dill ni dukhana chahti pr kitni hi mhbt kyu na ho wo zara sa dukh dy ya me us ki waja se ro paru to prchy htny lgti hn

  2. Apko follow kr k parh k bina consult kiay he ma na apny andar boht tabdeeli mehsos ki ha both positivity hala k mjhsy uljha hua dimagh shyd he kici ka ho m reading ur books right now n will contact u after that apki book reading k bad apny andar anay wali mazeed positivity zaror share krna chahongii.

  3. apsy contact kesy possible ha…mjy lgta ha mjy koi problem ha…but mjy smj ni aa rhi…if u can help me then please tell me…thankyou

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *