ناراض لڑکی

ناراض لڑکی

ایک لڑکی۔۔۔معاشرتی زبان میں۔۔۔گھر سے بھاگ کر اور۔۔۔نفسیات کی زبان میں۔۔۔گھر سے ناراض ہو کر۔۔۔لاہور آ گئی۔۔۔

اسے میرا پتا چلا تو۔۔۔مجھے کال کی۔۔۔میں لاہور ہی تھا۔۔۔فون اٹھایا تو۔۔۔اس نے پوچھا۔۔۔کیا آپ صابر سر بول رہے ہیں؟۔۔۔میرے ہاں کہتے ہی وہ رونے لگی اور کافی دیر تک روتی رہی۔پھر زرا کچھ حوصلہ ہوا تو کہنے لگی کہ سر۔۔۔آپ نے میری زندگی میں آنے میں بہت دیر کردی۔میں برباد ہو گئی ہوں۔

میں نے اسے سمجھایا کہ برباد ہونا کچھ نہیں ہوتا۔کمزور عمارت جلد گرتو جاتی ہے مگر اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ ختم ہو گئی ہے۔کیونکہ گرنےکے بعد جب وہ دوبارہ سے نئے سرے سے بنتی ہےتو وہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ جلدی نہیں گرتی۔

کہنے لگی۔۔۔سر میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں۔۔۔میں نےجواب دیاکہ ۔۔۔میں ایک ہفتہ تک لاہور ہی ہوں۔۔۔آپ میرے مینجر سے ٹائم لے کر ملاقات کر لیں۔۔۔

اورپھر وہ کچھ دنوں بعد۔۔۔میرے سامنے بیٹھی تھی۔۔۔سیدھی سی۔۔۔سادہ سی۔۔۔سچے دل والی لڑکی۔۔۔وہ بہت دیر تک کچھ نہیں بولی۔۔۔بس روتی رہی۔۔۔اندر بہت کچھ تھا بتانے کو ۔۔۔ایک ٹشو اس کے آنسوؤں کا بوجھ برداشت نہیں کر پا رہا تھا اور۔۔۔وہ بار بار نیا ٹشو اٹھاتی تھی۔۔۔

پھر آٹھواں ٹشو اٹھاتے۔۔۔اپنی آنسو صاف کرتے ہوئے بولی۔۔۔آپ کی باتوں میں اثرہوتا ہے۔۔۔اس لئے میں سوچ کر آئی ہو کہ۔۔۔آپ کی ساری باتیں مانو گی مگر۔۔۔پلیزآپ مجھے لاہور سے واپس جانے کو نہیں کہنا۔۔۔میں واپس نہیں جاؤں گی۔۔۔جو مرضی ہو جائے۔۔۔جتنا مرضی آپ مجھے سمجھا لیں۔۔۔

جی اوپرآپ نے صحیح نوٹ کیا کہ۔۔۔میں ٹشو بھی گنتا ہوں کہ۔۔۔سیشن میں کس نے کتنے ٹشو استعمال کئے اور۔۔۔انھیں بھی فارم پر نوٹ کر لیتا ہوں کہ۔۔۔اس سے درد کی شدت کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے کہ۔۔۔جب کوئی پہلی بارمدد لینے کے لئے آیا تھا تو آٹھ ٹشو استعمال کئے تھے اور۔۔۔ اب مدد لینے کے بعد۔۔۔ فائینل سیشن میں۔۔۔ ایک ٹشو کی بھی ضرورت نہیں رہی۔

میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔لاہور میں لاکھوں لوگ رہتے ہیں۔۔۔میں کیوں آپ کو واپس جانے کا کہوں گا۔۔۔خوشی سے رہیں۔۔۔

وہ ریلیکس ہو گئی۔۔۔بڑی سادگی سے پوچھنے لگی۔۔۔واقعی۔۔۔آپ مجھے واپس جانے کو نہیں کہیں گے؟۔۔۔۔

کیوں میں کیوں واپس جانے کا کہوں گا؟۔۔۔اگر آپ کو لاہور میں رہ کر خوشی ملتی ہے تو میں آپ سے آپ کی خوشی نہیں چھینوں گا۔۔۔مگر ایک بات تو بتائیں۔۔۔وہاں ایسا کیا ہے؟۔۔۔جہاں سے آپ آئی ہیں اور۔۔۔واپس جانا نہیں چاہتی۔۔۔میں نے پوچھا۔۔۔

وہ پھر سے رونے لگی۔۔۔اور روتے ہوئے جواب دیا۔۔۔وہاں۔۔۔اندھیرا ہے۔۔۔ چھوٹا سا پارک ہے۔۔۔تنگ ذہن لوگ ہیں۔۔۔دھوکہ دیتے ہیں۔۔۔دوسروں کی خوشیوں سے کھیلتے ہیں۔۔۔

لاہور میں کیا ہے؟جو آپ کو اچھا لگتا ہے؟۔۔۔میں نے پوچھا۔۔۔

آگے بڑھنے کے مواقع ہیں۔۔۔کھلے ذہن کے لوگ ہیں۔۔۔آپ ہیں لاہور میں۔۔۔اتنی توجہ سے میری بات سن رہے ہیں۔۔۔وہاں پورا شہر مل کر بھی اتنی توجہ سے میری بات نہیں سن سکتا۔۔۔انھیں لگتا ہے کہ لڑکیوں کے خواب نہیں ہوتے۔۔۔وہ کچھ کر نہیں سکتی۔۔۔اس نے جواب دیا تو میں نے مسکراتے ہوئےکہا۔۔۔میں فیس لے کر آپ کی بات سن رہا ہوں۔(میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ مدد دیتے ہوئے مدد لینے والے کوحقیقت سے دور نہ جانے دوں)۔۔۔

فیس کا مسئلہ نہیں ہے۔۔۔کوئی سنے تو صحیح کہ کسی کے دل میں کیا ہے۔۔۔وہاں تو فیس لے کر بھی کوئی نہیں سنتا۔۔۔سب کو اپنی اپنی پڑی ہوئی ہے۔۔۔کوئی کسی کا زخم نہیں سیتا۔۔۔پیسے پکڑ کر۔۔۔پھٹی روح کے ساتھ پھرتے رہو۔۔۔تڑپتے رہو۔۔۔

کیا آپ کو اپنے بارے میں پتا ہے؟۔۔۔میں نے پوچھا۔۔۔نہیں۔۔۔اس نے جواب دیا۔۔۔

میں نے کہا کہ آپ ایک سیدھی سادھی سی لڑکی ہیں اور۔۔۔لاہور تیز لوگوں کا شہر ہے۔۔۔آپ جیسے یہاں آرام سے لٹ جاتے ہیں۔۔۔لاہور میں کام کرنا ہے تو پہلےخود پر کام کریں۔۔۔ورنہ لوگ آپ کے خواب۔۔۔ رنگوں سمیت روند دیں گے۔۔۔

پھر سیشن میں کئی باتیں ہوئیں۔۔۔کئی حل نکلے اور وہ مطمعین ہو کرچلی گئی۔۔۔

پھر بہت عرصہ بعد۔۔۔اس کا فون آیا۔۔۔وہی سادہ۔۔۔سچی سی آواز۔۔۔صابر سر۔۔۔اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور بولتی میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔سناؤ برباد لڑکی۔۔۔کیسی ہو؟۔۔۔وہ خوش ہو گئی۔۔۔کہنے لگی۔۔۔سر آپ اتنے لوگوں سے ملتے ہیں۔۔۔میں اب تک یاد ہوں۔۔۔

میں آپ پر۔۔۔تحریر لکھ رہا ہوں۔۔۔میں سب لوگوں کو بھول جاتا ہوں مگر۔۔۔جن پر کچھ لکھتا ہوں۔۔۔وہ دیر تک یاد رہتے ہیں۔۔۔میں نے کہا۔۔۔

کہنے لگی۔۔۔پتا ہے اس دن آپ سے ۔۔۔بات کرنے کے بعد۔۔۔میں واپس اپنے گھر آ گئی تھی۔۔۔میں آج کل خود پر کام کر رہی ہوں۔۔۔تاکہ لاہور میں کام کر سکوں۔۔۔مجھے اور۔۔۔میرے خوابوں کو بچانے کا شکریہ۔۔۔

8 thoughts on “ناراض لڑکی”

  1. 🙂 🙂 🙂
    Meri behn farar kisi msly ka hl nhn hota hy chnda. Ap apny ilaqy me reh kr wo sb kryn jo ap k khuab hyn. Ta k ap ki junior lrkiyon k lie bhi asani peda ho. Ap to lahore ja k rehna afford kr lyn gi baki boht c hon gi jin k dm ghut jay ga …….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *