بے وفا شوہر

بےوفا شوہر
میڑک میں ہماری کلاس میں ایک امیر لڑکا پڑھتا تھا۔تھا تو وہ بہت امیر مگر کبھی اس کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے۔

پھر ایک دن میں نے اس میں ایک تبدیلی نوٹ کی کہ وہ پیسے لانے اور خرچ کرنے لگا ہے۔ایک بار اسے بریک کے وقت اکیلا پا کر میں نے پوچھ ہی لیا کہ سب خیر ہے نا؟ میں نے نوٹ کیا ہے کہ تم اب پیسے لانے لگے ہو۔

اس نے مجھے محبت اور شرارت بھری آنکھوں سے دیکھا اور مسکرا کر چپ ہو گیا۔میں نے بھی اس کے”چپ” کے جواب کو قبول کر لیا۔(میری عادت ہے کہ اگر میں کبھی کسی سے کچھ پوچھوں اور وہ مجھے نہ بتائے تو میں نہ ہی برا مناتا ہوں اور نہ ہی اس کے پیچھے پڑتاہوں کہ مجھے نہیں پتا ہر حال میں مجھے بتاؤ۔چاہے تم مجھے بتانے میں کمفرٹیبل ہو جا نہیں۔کیونکہ مجھے اندازہ ہے کہ ہر ایک کا اپنا ایک کمفرٹ زون ہوتا ہے۔اگر کوئی مجھے وہاں لے کر جانا نہ چاہے تو ناراضی اور ضد کیسی) ۔

اس بات کو ابھی کچھ دن ہی گزرے تھے کہ وہی لڑکا کلاس میں ہم سب لڑکوں کو چاکلیٹس بانٹتے ہوئے بتا رہا تھا کہ مبارک ہو۔ہماری کالونی میں جو نئی آنٹی شفٹ ہوئی ہیں۔ اُن سے ابّو کا افیئر (چکر) چل گیا ہے۔

یا میرے اللہ۔۔۔میری گناہگار آنکھوں نے یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ باپ کا چکر چل گیا ہے اور بیٹا چاکلیٹیں بانٹ رہا ہے۔پرے پھینکو یہ کَرسڈ چاکلیٹ۔میں نہیں کھاتا۔میں نے یہ کہہ کر چاکلیٹ کلاس کی ٹیبل پر رکھ دی۔

اس نے میرے سامنے سے چاکلیٹ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک تو تم لوگوں کو امپورٹیڈ چاکلیٹ کھلاؤ دوسرا تمہاری باتیں سنو۔نہ کھاؤ۔ لاؤ چاکلیٹ واپس کر دو۔یہ کہہ کر اس نے وہ چاکلیٹ ٹیبل سے اٹھا لی۔لڑکے اس چاکلیٹ پر ٹوٹ پڑے مگر میں نے دیکھا کہ اس نے اسے کسی کو نہیں دیا۔

بریک کے وقت وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا ۔اچھا سنو۔بابا کے افیئر کی وجہ سے نہیں میرے دوست ہونے کی وجہ سے تو کھا سکتے ہو نا۔لو میں نے اس سے کَرسڈ اتار کر دوستی کا پانی پھیر دیا ہے۔اس نے چاکلیٹ کے ریپر پر اپنا ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔

کیا گھر میں باقی لوگوں کو بھی بابا کے افیئر کا پتا ہے؟۔۔۔میں نے چاکلیٹ کھاتے ہوئے پوچھا۔۔۔

نہیں یار۔۔۔ہر کوئی تمہاری میری طرح نہیں ہوتا کہ تبدیلی کو نوٹ کرلے۔بڑی بہن یونیورسٹی جاتی ہے۔اسے اسائینمینٹ کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔چھوٹا بھائی پلے سٹیشن میں بزی رہتا ہےاور ماما۔اگر انھیں چیزیں سمجھ آتی ہوتی تو ان میں اور بابا میں ہر وقت لڑائی تھوڑی ہوتی رہتی۔اس نے جواب دیا۔

تم نے کیسے نوٹ کیا؟ میں نے پوچھا۔۔۔

یار بابا کے افیئر سے پہلے جب بھی ماما بابا لڑتے تھے تو خوب لڑائی ہوتی تھی۔ایسے جیسے دو مرغ لڑتے ہیں۔نہ ماما کم نہ بابا کم۔پھر میں نے ایک دن نوٹ کیا کہ اب ماما جتنا مرضی بولتی رہیں۔بابا پرسکون رہتے ہیں۔جو کام بھی کر رہے ہوں کرتے رہتے ہیں۔جواباً نہیں لڑتے۔ہو سکتا ہے وہ اندر ہی اندر شرمندہ ہوں۔یا خوش ہوں کہ میں نے تم سے بدلہ لے لیا ہے اب جاؤ جتنا بولنا ہے بولتی رہو۔جو مرضی کرتی رہو۔مجھے کوئی پرواہ نہیں۔

اور ہاں۔کچھ دن پہلے میں باہر جانے کے لئے تیار ہو رہا تھا کہ بابا نے مجھے بلایا۔احسن بیٹا ادھر آؤ۔(پردہ پوشی کے پیش نظر میں نے کلاس فیلو کا نام تبدیل کر دیا ہے اس لئے “احسن” فرضی نام ہے)۔کہاں جا رہے ہو۔پیسے تو نہیں چاہیئے؟ اور اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا کہنے لگے تم نے کونسا ہاں کہہ دینا ہے۔اور یہ کہہ کر ہزار کا نیا نوٹ اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہ کوئی دیکھ نہ لےمیرے ہاتھ میں دبا دیا۔

میں حیران یااللہ آج سورج کہاں سے نکلا ہے۔کیونکہ پہلے بابا مجھے ڈانٹنے کے بہانے ڈھونتے رہتے تھے کہ کہاں جا رہے ہو؟کیوں جا رہے ہو؟ کبھی پڑھ بھی لیا کرو۔کچھ ڈانٹنے کے لئے نہ ملے تو پڑھائی کا بہانا بنا کر بولنے لگ جاتے تھے۔مگر اب وہ مجھے بالکل بھی نہیں ڈانٹ رہے۔

اوریار بابا کو تم پیسوں کے معاملے میں نہیں جانتے۔اتنے پیسے والے ہیں مگر مجال ہے کہ کبھی بن مانگے پیسے دیتے ہوں۔ایک نمبر کے کھڑوس ہیں۔ایک ہزار روپے توایک ہزار بار مانگنے پر بھی نہ دیں۔ایک ہزار مانگو تو پانچ سو روپے ملتے ہیں۔اس لئے ایک ہزار روپے چاہیے ہوں تو دو ہزار مانگنے پڑتے ہیں کہ آدھے دیں گے۔تو پہلے ہی ڈبل مانگ لو۔اس دن میں ان کی اس حرکت پر حیران ہو گیا۔اور مجھے شک پڑ گیا کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہو گئی ہے۔

ہو سکتا ہے کہ وہ اس عورت پر پیسہ خرچ رہے ہوں۔اورہم پر بھی پیسہ خرچ کر اپنے اندر کی شرمندگی کو کم کرنا چاہتے ہوں۔اور ہو سکتا ہے کہ انھیں ڈر ہو کہ کل کو جب بات کھلے گی تو بچے ماں کا ساتھ نہ دیں اس لئے ہم سے تعلق اچھا کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔وہ ہمارا ساتھ کھونے سے ڈرتے ہوں۔یا واقعی انھیں اس آنٹی سے محبت ہو گئی ہو۔اور محبت کی وجہ سے ان کا دل نرم ہو گیا ہو۔تم کہتے ہو نا کہ محبت انسان کی پوری ذات کو تبدیل کر دیتی ہے۔ہم کیوں بابا کے بارے میں برا سوچیں۔

گھر کا ماحول ایک سو اسّی کی ڈگری پر تبدیل ہو گیا ہے۔کاش بابا کو جلدی محبت مل جاتی گھر میں پہلے ہی سکون ہو جاتا۔کبھی تم اب میرے گھر آؤ تو تم یقین نہیں کرو گے کہ یہ وہی گھر ہے جہاں ہر روز لڑائی ہوتی تھی۔اب ماما بولتی رہتی ہیں۔بابا چپ کر کے اپنا کام کرتے رہتے ہیں یا میوزک سنتے رہتے ہیں۔اس نے جواب دیا۔

اگر تمہاری ماما کو پتا چل گیا تو کیا بنے گا؟ میں نے پوچھا۔۔۔

پہلی بات کہ انھیں پتا ہی نہیں چلنا کیونکہ انھیں چیزیں جلدی پتا نہیں چلتی۔اور اگر پتا چل بھی گیا تو میں انھیں سمجھاؤں گا کہ کوئی بات نہیں بابا جو کر رہے ہیں انھیں کرنے دیں۔گھر کا سکون برباد نہ کریں۔میں بابا کا ساتھ دوں گا۔

میڑک کے بعد ہمارے تعلیمی راستے علیحدہ ہو گئے۔روز کا ملنا مہینوں سے ہوتا ہوا سالوں پر چلا گیا۔

چار پانچ سالوں بعد اچانک ایک دن وہ بائیک پر میرے گھر آیا تو رویا ہوا تھا۔آتے ہیں جلدی مچا دی کہ میرے ساتھ چلو۔ماما اسپتال میں ہیں۔تم انھیں جا کر سمجھاؤ۔تمہارے سمجھانے میں اثر ہے۔تم ہمیں سمجھاتے تھے نا۔میں تمہیں لے بھی جاؤں گا اور واپس بھی چھوڑ جاؤں گا۔گاڈ پرومیس۔

یار آنے جانے کا مسئلہ نہیں ہے۔تم لوگوں کا سمجھانا اور بات تھی۔ماما کو سمجھانا اور بات ہے۔وہ مجھ سے بہت بڑی ہیں۔تم لوگوں کو میں جانتا تھا مگرمیں انھیں زیادہ بھی نہیں جانتا۔میں نے کہا تو وہ نہیں نہیں مجھے پتا ہے کہ تم انھیں سمجھ لو گے۔وہ بڑی تو ہیں مگر انھوں نے زندہ نہ رہنے کا چھوٹا فیصلہ کر لیا ہے۔ وہ ضد کر کے مجھے اسپتال لے گیا۔

اسپتال کے راستے میں اس نے مجھے بتا کہ تمہیں بابا کے افیئر والی بات تو یاد ہو گی۔کئی سالوں بعد ماما کو اب پتا چلا ہے۔جیسے ہی انھیں اس بات کا پتا چلا انھیں ہارٹ اٹیک ہو گیا۔اور اب وہ اسپتال میں ہیں۔کہتی ہیں کہ اللہ کرے اس اسپتال سے میری لاش واپس جائے میں مڑ کے اس بے وفا کی شکل نہ دیکھوں۔میں اس گھر میں کبھی قدم نہیں رکھوں گی۔میری لاش بھی گھر کے لان میں رکھنا۔یار تمہیں نہیں پتا ماما بہت ضدی ہیں۔انھوں نے مرنے کی ضد پکڑ لی ہے۔وہ مجھےروتے ہوئے ساری بات بتاتا رہا اور اس کے آنسو بائیک میں اس کے پیچھے بیٹھے میرے اوپر گرتے رہے۔

اسپتال میں وہ کمرے کے باہر ہی رک گیا کہ میں اندر جا کر کھل کر اس کی ماما سے بات کر سکوں۔جب میں کمرے میں داخل ہوا تو اس کی ماما بیڈ پر سیدھی لیٹی اوپرچھت کی طرف دیکھتے ہوئے مسلسل رو رہیں تھیں۔

میں نے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ آپ تو بہت حوصلے والی خاتون ہیں کیا ہو گیا ہے آپ کو حوصلہ رکھیں۔

میں سب کچھ برداشت کر سکتی ہوں۔کسی کی بے وفائی نہیں۔میں کسی کی کوئی بات نہیں سنوں گی۔یہ کہہ کر انھوں نے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا۔

میں ان سے کہنا چاہتا تھا کہ کچھ کام ماؤں کے کرنے والے ہوتے ہیں۔انھیں وہ کئے بغیر کہیں نہیں جانا چاہیئے مگر میں ان کے بڑے ہونے کی وجہ سے وہاں کچھ دیر کھڑا رہا اورمزید کچھ کہے بغیر باہر آ گیا۔وہ کلاس فیلومجھے واپس گھر چھوڑ گیا۔اور واپسی پر ہم دونوں نے کوئی بات نہیں کی۔

کچھ دنوں بعد مجھے کسی سے پتا چلا کہ اس کی ماما اسپتال میں ہی فوت ہو گئی ہیں۔ان کے فوت ہونے کے کچھ ماہ بعد ان کا سارا گھر برباد ہو گیا۔میرے کلاس فیلو نے تعلیم چھوڑ دی اور وہ جو کہتا تھا کہ وہ اپنے بابا کا ساتھ دے گا اسے لگا کہ اس کے بابا نے اس کی ماما کو مارا ہے۔اس نے اپنی ماما کا ساتھ دیا اور باپ کے خلاف ہو گیا۔چھوٹا بھائی گھر سے بھاگ گیا اور

بڑی بہن نے آج تک شادی نہیں کی کیونکہ اسے لگتا ہے کہ مرد بے وفا ہوتے ہیں۔

مجھے اندازہ نہیں تھا کہ بےوفائی سے اتنا بڑا بیڑا غرق بھی ہو سکتا ہے۔

آپ کا ماہر نفیسات۔۔۔صابر چوہدری

13 thoughts on “بے وفا شوہر”

  1. Sir ager yehi bewafai ourat ki ho or kahani bilkul same ho. To us k bary main ap kya kahyn gy? Plz jo bhi kahani batatyn hain us ka hal bhi byan kia kryn thanks.

  2. Mere nazdek barbadi larai se shru hoti hai..hr waqt ki larai mard ko 2sre rastay dikhati hai sakon k ..end yehi hota hai k aorat ka pachtawa maut ki truf le jata hai kiun k waqt k aik khami ya khubi yeh hai k isko wapas ni laya ja skta

  3. sai bat hai…bewafai bewafai hi huti hai…or specially aik mian biwi k relation mn…pr us relation mn kesi bewafai jin mn kbhi banti hi na ho…pr swal ye hai k wo log akhir thy to mian biwi hi…agr bewafai sy bnda jaan dy rha h or wo bhi us shakhs k liye jis sy hmesha lrta rha ho…mery parents mn bhi bht lrai huti rhi hai..pr ALLAH ka shukr h k ab sb theek hai…mgr m imagine kr skti hun k agr mery papa aisa krty to shyd meri mama ka bhi bht bura hal huta…
    mera sirf yehi kehna hai k ye rishta compromise sy hi chalta hai…bnda bhet k sai treeqy sy bat kry kuch batain maany or kuch maanwaye…

  4. Maa ka role adaa krtien woh tou unko kya krna chaeye tha??yeh myn iss lye pouch re hun kiu k yeh aam baat bhi nhi mgr yeh taqreebn hr ghr myn ya yeh keh lyn k rich families myn hota hy k hr koi apni duniya myn rehta hy…..

  5. Yess mard bewafa hty h ksi b rishty m hn ye b hqeqat h k mrd jitnaa wfaadar b kooi niii htaa 10 years affair chlaa kr b apny ghar walo sy wfaa kr k unkii pSand kii shadii kr letaaa h r phr apniii wife sy b inteha kii mhbf krtaaa h r wfa nbhata h jis k wadhy ksiii r sy kye hty h phr mrd kesy bwfa hoo gyaa apny bht achaa likhaaa good

  6. Aurat khas kr maa pay bht bari zimadari ajati hai.beshak bewafai bara gark karti hai laikn aik lamhy k luy aurat sirf ye soch lay mai in bacho ki maa hn apny ilawa dosron ka soch liya jay to zindagi asan ho jati hai
    Pehly us shaks say lar k bacho ka bachpan kharab kiya phir bewafai ka label laga kr unki jawani.

  7. Jo awrat apny husband k sath bewafaee kar sakti hai.wo kisi k sath b bewafaee kar sakti hai..mai aksar awratoo ko bewafa daikha hai..

  8. Relationship crises…ghar me sakoon or tarbeyaaat k lihaaz se 70 perct se b ziayada ter hisaaa Mother ki taraf se hota ha….. zindagi k kese b muqaam per pohanch jaeyyy….!!! Bunyaadi tarbeyaat Maa ki hi di hui hoti haaa……!!!!
    Ye Affairs insaaan ka apnaa kirdar hota ha….!!! …….. ese suraaat me Dusrii shadi b to ek haaal tha…..

  9. Rishty q toote hain qk Hum Larty hain tawqa Lgaty hain
    Laraian q hoti hain?
    Qk Hum aik dosre ko wesa bnana chahty hain Jesa Hum chahte hain agr Hum aik dosre ko Jese wo hain Wese hi qabool krein to Larain na hon…
    Or agr Samne wala apko bdalne chahta hai to apne zehn k sakoon k lea zror khud ko Badal lein
    Rahi bat bewafai ki to agr Koi phir bhi Itne khyal k bad bhi bewafai krta hai to Bht shadeed dukh ki bat hai Lekin iska nateeja bewafai krne wale ko bhi bhukatna parta hai sharmindagi ki soorat Mei….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *