اندر کا سمندر

اندر کا سمندر۔۔۔

کیا آپ اپنے شوہر سے لڑتی ہیں؟۔۔۔میں نے ارجنٹائینی خاتون سے پوچھا۔

اپنے سوا میں کسی سے نہیں لڑتی۔اگر میں کسی سے لڑتی ہوتی تواسپتال تک نہ پہنچتی۔اس نے کچھ گہرا سوچتے ہوئے کہا۔

آپ کو کیا لگتاہے کہ جو لوگ لڑتے ہیں وہ اسپتال تک نہیں پہنتے؟ میں نے اس کی یہ بات فارم پر نوٹ کرتے ہوئے پوچھا۔

وہ اس کے جواب میں خاموش رہی تومیں نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئےپوچھا۔۔۔آپ کو کب خیال آیا کہ آپ کو ماہر نفسیات سے ملنا چاہیئے؟

جب میں سٹی سکین کی مشین کے اندر تھی۔اُس نے جواب دیا۔

گو کہ مشین کے اندر میں چل نہیں رہی تھی مگرمیرا دماغ مسلسل چل رہا تھا۔ میرا جسم سُن تھا مگر میرے کان سب کچھ سن رہے تھے۔مشین کی آوازیں میرے کانوں میں پڑ رہی تھی۔میں سب کچھ سُن سکتی تھی مگر کر کچھ نہیں سکتی تھی۔

اُس دن میرے جسم نے میری بات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔میں نے لیٹے لیٹے اپنی انگلی اٹھانے کی کوشش کی مگر وہ نہ اٹھی۔حتانکہ چیک کرنے کے لئے کہ یہ میری بات مانتا ہے کہ نہیں۔ میں نے اپنے پاؤں کے انگوٹھے تک کو ہلانا چاہا مگر اُس نے بھی میری بات نہیں مانی۔

آپ نے غور کیا ہو گا کہ جیسے آپ کا ذہن پانی کا گلاس دیکھ کرہاتھ کو حکم دیتا ہے کہ اسے اٹھاؤ اور منہ تک لے کرجاؤ۔ہاتھ اُس کی بات مانتا ہے۔جو وہ کہتا ہے وہ کرتا ہے۔مگر اُس تک میرے ساتھ ایسا نہیں ہو رہا تھا۔میرے اعضاء میری بات نہیں مان رہے تھے۔آنکھوں نے بھی رونے سے انکار کر دیا تھا۔
تو پھر میں سوچنے لگی کہ میں یہاں سٹی سکین کی مشین کے اندر تک کیسے پہنچی۔

میرا ذہن مجھے پیچھے لے گیا۔بہت بہت پیچھے۔شادی۔۔۔یونیورسٹی۔۔۔کالج۔۔۔سکول سے بھی پیچھے۔جب میں چھوٹی سی تھی۔میں ایک حساس بچی تھی۔بہت کچھ بلکہ سب کچھ محسوس تو کرتی تھی مگر کسی سے کچھ شیئر نہیں کرتی تھی۔سب جذبات اپنے اندر جمع کرتی رہتی تھی۔مجھے کچھ برا لگتا یا میں ہرٹ ہوتی تو میں کسی کو کچھ نہ بتاتی ۔میں باہر سے تو بڑی ہوتی رہی مگر اندر سے بچی ہی رہی۔وہ بچی جو کسی کو کچھ نہیں بتاتی تھی۔

گھر میں امّی ابو یا بہن بھائی ۔۔۔سکول میں ٹیچر یا کلاس فیلوز۔۔۔اگر کچھ ایسا کہہ یا کر دیتے۔جس سےمجھے درد ہوتا۔میرا دل دکھتا تو میں اندر سے تو ٹوٹ جاتی مگرباہر سے ٹھیک ہونے کا بہانا کرتی رہتی۔جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔جیسے میں او۔کے ہوں۔نہیں میں اندر سے او۔کے نہیں ہوتی تھی۔

میں اُس کی بات بہت توجہ سے سُن رہا تھا تو اُس نے اپنی بات درمیان میں ہی چھوڑ کر اچانک پوچھا۔ ایک بات پوچھوں آپ سے؟
جی پوچھیں۔میں نے جواب دیا۔
کیا آپ سب کی باتیں اتنی ہی توجہ سے سنتے ہیں؟جتنی توجہ سے میری بات سن رہے ہیں۔اُس نے پوچھا۔
ہاں۔یا شایدکچھ لوگوں کی باتوں سے مجھے ذرا ذیادہ دلچسپی ہونے لگتی ہے۔انھیں ذرا ذیادہ غور سے سُنتاہوں۔ میں نے کچھ دیر سوچنے کے بعدجواب دیا۔

آپ نے کافی دیر ہو گئی کچھ لکھا نہیں۔تب کیا لکھا تھا آپ نے؟ آئی ایم سوری۔میں آپ سے سوال کر رہی ہوں۔اُس نے کہا۔
نہیں نہیں کوئی بات نہیں۔آپ سوال کر سکتی ہیں۔کچھ باتیں کاغذ پر نوٹ کرنے والی ہوتی ہیں کچھ نہیں۔جو کاغذ پر نوٹ کرنے والی ہوتی ہیں وہ نوٹ کر لیتا ہوں۔
تب میں نے یہ لکھا تھا کہ آپ کا لاشعور لڑائی کو مسائل حل کا حل سمجھتا ہے۔ میں نے جواب دیا۔

آپ کے شوہر کیسے ہیں؟ میں نے سیشن کو آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا۔
اچھے ہیں۔اپنی ذمہ داریوں کا احساس رکھتے ہیں۔میری سالگرہ یاد رہتی ہے۔بچیوں کی فیس وقت پر جمع کروا دیتے ہیں۔بس اپنی ماں کے سامنے کچھ نہیں بولتے۔جو تھوڑا برا لگتا ہے۔اُس نے جواب دیا۔

آپ کیا چاہتی ہیں کہ وہ آپ کے لئے اپنی ماں سے لڑے؟ میں نے پوچھا۔
نہیں نہیں۔میں کیوں چاہوں گی کہ وہ اپنی ماں سے لڑے۔مگر چپ کیوں رہتا ہے۔بول بھی تو سکتا ہے کہ ماں یہ بری نہیں ہے۔اسے برا نہ کہوں۔چلو میرے نہیں بولتا تو نہ سہی مگر اپنی بچیوں کے لئے تو بول سکتا ہے نا۔جب اُس کی ماں اُس کی بچیوں کو کچھ برا بھلا کہے تو۔ہو سکتا ہے میں بری ہوں مگر بچیوں کا کیا قصور ہے۔وہ احساس کمتری کا شکار ہو رہی ہیں۔مجھے دکھ ہوتا ہے یہ دیکھ کر۔وہ باپ ہے اسے کچھ نہیں ہوتا۔اُس نے جواب دیا۔

کیا کبھی وہ اپنی ماں سے اپنے حق میں بولا ہے؟ میں نے پوچھا۔
نہیں۔اُس نے جواب دیا۔
جوشخص اپنے حق کے لئے کسی سے بات نہ کر پاتا ہو وہ کسی اور کے حق کے لئے اُس سےکیسے بات کر سکتا ہے۔یہ اُس کی پرسنیلٹی کا حصّہ ہے۔اُس کی ذات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔میں نے کہا۔
جی میں آپ کی یہ بات مانتی ہوں مگر چڑیا اپنے لئے کچھ نہیں کر سکتی مگر اپنے پیاروں کے لئے سانپ سے لڑ جاتی ہے۔ وہ تو پھر اُس کی ماں ہے۔اُس نے کہا۔

چڑیا اس لئے لڑ پڑتی ہے کیونکہ اُس کے پاس چوائس نہیں ہوتی۔چڑیا اپنی ترجیحات طے نہیں کر سکتی۔بنانے والے نے جو اُس کے اندر ترجیحات طے کر دیں بس وہ ان کو ہی فولو کر سکتی ہے۔اگر اُس کے پاس چوائس ہوتی تو شاید وہ کچھ اور کرتی۔ انسان مختلف ہوتا ہے۔اُس کو چوائس دے کر پیدا کیا گیا ہے۔وہ کسی کے کہنے سے کچھ نہیں کرتا۔ اپنی ترجیحات خود طے کرتا ہے۔سب کی اپنی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔وہ اسی کے تحت چلتا ہے۔آپ کسی سے اس بات پر گلہ نہیں پال سکتے کہ جو میری ترجیحات ہیں وہ تمہاری کیوں نہیں ہیں۔ہمیں ایک دوسرے کی ترجیحات سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیئے تاکہ تعلق میں تازگی برقرار رہ سکے۔میں نے اسے سمجھایا۔

8 thoughts on “اندر کا سمندر”

  1. Kisi ki bat sun lainy say hi kehny waly ka bojh halka ho jata hai..behtreen tareeka hai tasali ka…wakai kisi dosry k andr ja k us say tawaka nai ki ja sakti..bus apny hisy ka kam kiya ja sakta hai..apni zimadari nibhai ja sakti hai..laikn aisa karny mai talukat ka wo pyar khtum ho jata hai ..wo apnapun wo bekhudi si kahi kho jati hai.

  2. Men are much stronger than women it’s a natural thing . Females need appreciation and a friend who is very close to her and she can say anything in front of her friend . When our needs are not fulfill in our family so we pretend and behave like a complete personality but in reality we destroy our own self that’s the only thing which is creates alot of problems in our life and after some period of time we are nothing ..and do not be able to perfect mind’s work and physically fit

    1. Mam how could U say men are more stronger then a women… when A women break a man he is not remain storng until he die…and other thing when Allah made ur relation with ur husband so why U need a friend to say anything U can share ur husband…

      1. husband is 2nd choice when you get married, but some people like that lady dont share to anyone, i also don’t share any single thing with any single person. By God its hard, really hard.
        and sehrish men are stronger in that sense they know how to manage and resolve issues, they think with relax mind, while mostly girls dont show patience , that’s the main difference

  3. Dear sir’
    I agreed with u.i keepe reading ur wrdz.i like ur thoughts/the way of speaking.when ever u will have time must share with me.i need a physcitrics too but i cnt visit bcz of my husbnd.
    Regards;
    Rabbia

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *